ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے تہران میں نماز جمعہ سے قبل لاکھوں افراد سے خطاب میں کہا کہ صہیونی ریاست کی بنیاد ہل رہی ہے اور مغربی ممالک علاقے کے حالات سے غلط فائدہ اٹھا کر مزید مراعات حاصل کرنا چاہتےہیں۔ انہوں نے فلسطین کی قدیمی تاریخ کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ مغربی ممالک اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے دوحکومتوں یعنی صہیونی ریاست کے کنارے فلسطینی حکومت کی تشکیل کا پروپگينڈا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سامراج اب اضمحلال کی طرف بڑھ رہا ہے اور نیٹو اور مغربی ممالک ہرگز سلامتی اور عدل و انصاف قائم نہيں کرسکتے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ مغربی ممالک فلسطینیوں کی سرزمیں کے بارےمیں مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر انہیں اختلافات سے دوچار کرنا چاہتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست صرف فلسطینیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس غاصب حکومت کی تاسیس اور اس کا جاری رہنا تمام انسانی اصولوں اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ صہیونی ریاست تمام عالمی مجرموں کا مرکز ہے اور اس کے مقابل یوم قدس تمام موحدین اور ظلم مخالف لوگوں کا نقطہ اتحاد ہے اور اس کا ھدف صہیونی ریاست کو مکمل طرح سے ختم کرنا ہے۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ مغربی ملکوں نے دنیا کو اپنے مسائل میں گرفتار کرنے کے لئے صہیونی ریاست کی بنیاد رکھی تھی اور آج یہ غاصب حکومت وحشی سامراجیوں اور تسلط پسندوں کے اتحاد کا مرکزاور سامراجیوں نیز بردہ داروں کے وحشیانہ کردار کا مظہر بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کو مغربی دنیا کی طرف سے یہ ذمہ داری ملی ہےکہ وہ علاقے کو ہمیشہ کشیدہ رکھے علاقے کو دھمکیاں دیتی رہے اور اختلافات پھیلاتی رہے نیز جارحیت اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بھی بناتی رہے تاکہ اس علاقے میں سامراجیوں کے تسلط کی زمین ہموار ہوسکے۔
.............
/169